پیباڈی کے چیئرمین اور سی ایاوگریگبوائس کا عالمی رہنماؤں سے مطالبہ کہ وہ عالمی توانائی پالیسی کو بہتر بنانے کے لیے تین بڑے ایپک ممالک سے سیکھے گئے اسباق استعمال کریں

سینٹ لوئس، 10 نومبر 2014ء/پی آرنیوزوائر/ ایشیانیٹ پاکئستان — پیباڈی انرجی (این وائی ایس ای: BTU) کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو آفیسرگریگری ایچ بوائس نے آج توانائی افلاس سے نمٹنے اور عالمی ترقی کے لیے توانائی کی ضروریات کو طویل المیعاد انداز میں پورا کرنے کے لیے ایک پانچ نکاتی پالیسی پیش کی ، جو تین ایشیا-بحر الکاہل اقتصادی تعاون (APEC) بڑے ممالک سے سیکھے گئے قابل قدر اسباق کا حوالہ دیتی ہے۔

Advanced%20Energy%20for%20Life%20is%20a%20campaign پیباڈی کے چیئرمین اور سی ایاوگریگبوائس کا عالمی رہنماؤں سے مطالبہ کہ وہ عالمی توانائی پالیسی کو بہتر بنانے کے لیے تین بڑے ایپک ممالک سے سیکھے گئے اسباق استعمال کریں

Advanced Energy for Life is a campaign to raise awareness and support to end global energy poverty, increase access to low-cost electricity and improve emissions. Please join in the campaign. Visit us at AdvancedEnergyForLife.com and Advanced Energy for Life on Facebook, YouTube, Tumblr, Google+ and Vine. Use our Twitter handle @AdvancedEnergy.

بیجنگ میں 2014ء ایپک سی ای او اجلاس میں سربراہان مملکت اور سی ای اوز کے وسیع البنیاد مذاکرات کے دوران بوائس نے کہا کہ چین، آسٹریلیا اور ریاستہائے متحدہ امریکہ تینوں نے توانائی افلاس کو کم کرنے، کم خرچ توانائی رسائی تخلیق کرنے اور اخراج کو بہتر بنانے کے لیے اہم پالیسی سبق پیش کیے ہیں۔

  • چین 1990ء سے 650 ملین افراد کو غربت سے نکالنے کے لیے کوئلہ استعمال کرچکا ہے جس کے دوران کل مقامی پیداوار (جی ڈی پی) میں 850 فیصد اضافہ ہوا اور کوئلے سے بننے والی بجلی کے استعمال آٹھ گنا بڑھا، اس پیشرفت کو بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے “ایک اقتصادی معجزہ” قرار دیا۔
  • آسٹریلیا نے کاربن محصول کو منسوخ کرنے کے فوری مقصد کے لیے گزشتہ سال نئی حکومت کا انتخاب کیا، اس محصول نے ہفتہ وار 100 ملین ڈالرز سے زیادہ کا اقتصادی بوجھ بنا رکھا تھا۔ ٹیکس کو موقوف کرنے سے ہر عام خاندان کو بجلی اخراجات میں 550 ڈالرز سالانہ کی بچت متوقع ہے۔
  • ریاستہائے متحدہ امریکہ نے کوئلے کی جدید ٹیکنالوجیز میں یکساں مرحلہ وار سرمایہ کاری کے ذریعے اخراج میں نمایاں کمی حاصل کی ہے اور آج دنیا میں ہوا کا بہترین معیار رکھنے والے ملکوں میں سے ایک ہے۔ امریکہ کی بجلی میں کوئلے کا استعمال 1970ء سے اب تک 170 فیصد بڑھ چکا ہے، جس کے ساتھ جی ڈی پی دوگنا اور کلیدی اخراج کی شرح فی میگاواٹ گھنٹہ 90 فیصد تک کم ہوئی۔

بوائس نے کہا کہ “توانائی عدم مساوات کو کم کرنے کے لیے سماجی و اقتصادی ترقی کو بہتر بنانا تمام عالمی رہنماؤں کا کام ہے۔ توانائی افلاس کو خاتمے تک پہنچانا – جو دنیا کا نمبر ایک انسانی و ماحولیاتی بحران ہے – جامع ترقی اور علاقائی ربط سازی کے لیے ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ ایک مرتبہ اس بحران کو حل کرنے کے بعد ہمارے دیگر اجتماعی مسائل کہیں زیادہ قابل تکمیل ہوں گے۔”

ہر روز دنیا کی 7 ارب آبادی میں سے نصف سے زيادہ افراد اپنی زندگیوں میں مناسب بجلی کے بغیر اٹھتے ہیں۔ اربوں افراد کھانا پکانے اور گرمی حاصل کرنے کے لیے قدیم چولہوں پر بھروسہ کرتے ہیں، جس کی آگ سے نکلنے والا دھواں قبل از وقت بیماری اور زندگی کے خاتمے کا سبب ہے۔ توانائی افلاس سے ہونے والی گھریلو فضائی آلودگی عالمی سطح پر ہونے والی اموات کا چوتھا سب سے بڑا سبب ہے۔

رواں پانی، خوراک کو محفوظ کرنے، گھر میں روشنی کرنے اور اسے گرمی دینے جیسی روزمرہ کی سادہ ضروریات کافی توانائی نہ رکھنے والے خاندانوں کے لیے سب سے زیادہ اہم ہیں، بوائس نے کہا۔ ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے توانائی کے بڑے ذخیرے کی ضرورت ہوتی ہے: غیر-اوای سی ڈی اقوام کو یورپی یونین میں استعمال ہونے والی فی کس توانائی کے برابر لانے کو آج دنیا کے زیر استعمال بجلی سے دوگنا سے بھی زیادہ کی ضرورت ہوگی۔

Peabody%20Energy. پیباڈی کے چیئرمین اور سی ایاوگریگبوائس کا عالمی رہنماؤں سے مطالبہ کہ وہ عالمی توانائی پالیسی کو بہتر بنانے کے لیے تین بڑے ایپک ممالک سے سیکھے گئے اسباق استعمال کریں

Peabody Energy.

بوائس نے یہ بھی کہا کہ توانائی افلاس کے شکار افراد کی فوری ضروریات کو پورا کرنے کا کام لازمی طویل المیعاد ضروریات کے اطمینان کے ساتھ ہونا چاہیے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے حالیہ پالیسی منظرنامے کی بنیاد پر 2030ء تک بجلی کی طلب میں تقریباً 70 فیصد اضافے کی توقع ہے۔ کروڑوں افراد متوقع طور پر شہروں کی جانب ہجرت کریں گے جسے زیادہ بجلی کی ضرورت ہوگی، اور دنیا کی آبادی بھی 8.3 ارب افراد سے تجاوز کرنے کی پیش بینی کی گئی ہے۔

بوائس نے کہا کہ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تمام ایندھنوں کی ضرورت ہے، اور 21 ویں صدی کا کوئلہ اپنے بڑے پیمانے، کم خرچ اور کم اخراج کی صلاحیت کی وجہ سے حل کا اہم ترین حصہ ہوگا۔

21 ویں صدی کے کوئلے کا خیال حکومت چین و ریاستہائے متحدہ امریکہ نے 2009ء تک کوئلے سے جدید صاف توانائی حل کے لیے بین الاقوامی شراکت داری کے تناظر میں متعارف کیا تھا۔ اس میں انتہائی موثرمسلسل تعامل سے محفوظ پیداوار اور ساتھ ساتھ آج کی جدید کوئلے کی ٹیکنالوجیاں شامل ہوتی ہیں جو انتہائی کم اخراج کو متحرک کرتی ہیں۔

بی پی عالمی توانائی کے شماریاتی جائزے کے مطابق کوئلہ دنیا کا سب سے تیزی سے ابھرتا ہوا اہم ایندھن ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق کوئلہ 1990ء سے اب تک 830 ملین سے زیادہ افراد کے لیے توانائی رسائی کو ممکن بنایا ہے، جن میں زیادہ تر ابھرتی ہوئی معیشتوں میں ہی۔ یہ پون اور شمسی توانائی کے مقابلے میں 13 گنا زیادہ رسائی کے برابر ہے۔

بوائس نے کہا کہ توانائی عدم مساوات سے نمٹنے اور ماحول کو بہتر بنانے کے لیے درست طریقہ، درست ایندھن اور درست پالیسیاں ضروری ہیں ، اور ایپک اراکین سے مطالبہ کیا کہ وہ پانچ ترجیحی پالیسیوں میں قائدانہ کردار سنبھالیں:

1۔ توانائی عدم مساوات کے معاملے کو پالیسی اور ایپک اراکین اور جی20 اقوام کے اقدامات کے لیے اہم ترجیح کے طور پر اٹھائیں۔

2۔ تمام شہریوں پر توانائی پالیسی کے زبردست اثرات اور توانائی کی دستیابی اور اس کے اخراجات کو کم رکھنے کی اہمیت کو تسلیم کریں۔ کسی بھی نئی توانائی پالیسی سفارشات میں ظاہر ہونا چاہیے کہ توانائی رسائی کس طرح بڑھتی ہے اور توانائی کی دستیابی کو کس طرح مستحکم بنایا جا سکتا ہے۔

3۔ ایک حقیقی “سب سے بالاتر” توانائی حکمت عملی کو اپنایا جائے جو تمام قابل تعین فوائد اور ہر متبادل ایندھن کے لیے محدودیتکو تسلیم کرے۔ کوئلے کے لیے اس میں زنجیری تعامل سے محفوظ ٹیکنالوجیاں شامل ہوتی ہیں جس میں نئے کوئلہ پلانٹس کے لیے جدید اخراج کنٹرولز ہیں۔

4۔ اخراج کو کم سے کم کرنے اور اخراجات کو گھٹانے کے لیے جدید کوئلہ ٹیکنالوجیوں میں مستقل سرمایہ کاری کی حمایت کی جائے۔

5۔ ترقیاتی بینک کی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے تاکہ ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں توانائی رسائی کو پھیلایا جا سکے۔

بوائس نے کہا کہ “صاف اور قابل استطاعت بجلی تک رسائی اربوں افراد کی بہتر اور طویل تر زندگی کا محرک ہے۔ہمیں انسانی حالات کو بہتر بنانے کے لیے حلوں کو بہتر بنانے کے لیے لازماً کام کرنا ہوگا۔”

ایپک سی ای او اجلاس 1996ء میں شروع ہوا تھا اور رواں سال 16 دیگر اقوام اورخطوں سمیت 21 ایپک معیشتوں ، بشمول سربراہان مملکت، سرفہرست سی ای اوز اور پالیسی ساز کی شرکت متوقع ہے۔

توانائی افلاس کو کم کرنے، سستی بجلی تک رسائی بڑھانے اور ٹیکنالوجی حلوں کے بارے میں مزید جاننے کے خواہشمند افراد AdvancedEnergyForLife.comاور فیس بک اور یوٹیوب پر Advanced Energy for Lifeملاحظہ کریں۔ ہمارے ٹوئٹر ہینڈل @AdvancedEnergyکا استعمال کریں۔

پیباڈی انرجی دنیا کی سب سے بڑی نجی شعبے کی کوئلہ کمپنی ہے اور ماحول دوست کان کنی، توانائی رسائی اور صاف کوئلہ حل پیش کرنے میں عالمی رہنما ادارہ ہے۔

رابطہ:
سوفی برس
308 -3363 (314) 1+

لوگو – http://photos.prnewswire.com/prnh/20120724/CG44353LOGO
لوگو – http://photos.prnewswire.com/prnh/20140226/CG70548LOGO