‫حج کی ادائیگی کے لیے 20 لاکھ زائرین کی مکہ آمد

جدہ، سعودی عرب، 31 اگست، 2017/پی آر نیوز وائر/–

حج کی باضابطہ سالانہ شروعات کے ساتھ، سلطنت سعودی عرب نے مکہ مکرمہ میں20  لاکھ زائرین کی کی آمد کا اعلان کیا ہے۔

خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے زیر نگرانی  حج کے انتظامات  کی ذمہ داری سعودی عرب پر ہے۔

’’ہر سال حج کی میزبانی کرنا سلطنت سعودی عرب کے لیے ایک اعزاز کے ساتھ ساتھ عظیم ذمہ داری بھی ہے، جو ہمیں بے حد عزیز ہے۔ وزیر ثقافت و اطلاعات ڈاکٹر عواد العواد نے کہا کہ ’’حجاج کرام کی بہتری کے لیے ہم ہر ممکن کوشش کرتے ہیں اور دنیا بھر کے افراد کو جو اس دینی اور روحانی فریضہ کو ادا کرنے کے خواہش مند ہیں ان کا استقبال کرنا ہماری اولین ترجیح ہے،‘‘۔

دنیا کا استقبال

اس سال، ایک درجن سے زائد ممالک سے حجاج کرام تشریف لائے ہیں۔ دیگر قومیتوں میں، سعودی عرب نے اب تک جن ممالک کے لوگوں کا استقبال کیا ہے، وہ درج ذیل ہیں:

  • 184,000 پاکستانی زائرین
  • 170,000 ہندوستانی زائرین
  • 127,000 بنگلہ دیشی زائرین
  • 90,000 ترکی کے زائرین
  • 41,200 ملائیشیا کے زائرین
  • 23,500 روسی زائرین
  • 12,700 چینی زائرین
  • 6,000 فلپینی زائرین
  • 3,500 جنوبی افریقی زائرین

اعداد کے مطابق حج

تقریباً 94 فیصد زائرین ہوائی جہاز سے تشریف لائے ہیں۔ بھیڑ کم کرنے اور مسافروں کو بہتر آمد و رفت کی سہولت کی فراہمی کے لیے، جدہ اور مدینہ کے ہوائی اڈوں پر حاجیوں کے لیے خصوصی ٹرمینل بنائے گئے ہیں۔

کچھ زائرین بسوں، منی وینوں اور کاروں میں آئے ہیں۔ اس سال 30,000 سے زیادہ گاڑیاں آئی ہیں۔ زائرین کو مقامات مقدسہ تک لانے والی 17,000 سے زیادہ بسیں ہیں جنھیں 22,000 سے زیادہ ڈرائیور لے کر آئے ہیں۔

حج کے دوران، روزانہ 2.64 ملین کھانا تقسیم کیا جاتا ہے۔ سعودی ہلال احمر کے 2,000  سے زیادہ اہلکار مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور دیگر مقامات مقدسہ پر تعینات کیے گئے ہیں جو حاجیوں کو حج کے لیے ایمبولنس کی خدمات فراہم کریں گے۔

سعودی وزارت صحت کے مطابق، حاجیوں پر اب تک 2,100 سے زیادہ طبی عمل کا اطلاق کیا جا چکا ہے۔

حج کے لوگ

متاثر کن تعداد اورمادی  کوششوں کے علاہ حج کے دوران رسد کا انتظام اس بات کی نمائندگی کرتا ہے کہ، حج ایک مسلم کے طور پر بے حد انفرادی اور مذہبی دونوں اعتباری سے ایک روحانی لمحہ  ہے، جس میں لوگ عمر اور پس منظر سے بالا تر اس فریضہ کی ادائیگی کے لیے آتے ہیں۔

اس سال کی سب سے عمر دراز حاجی انڈونیشیا کے ماریہ مرغنی محمد ہیں جن کی عمر 104 سال ہے۔ ان کے، اور دیگر لوگوں کے لیے خدمات کی ایک وسیع رینج فراہم کی گئی ہے تاکہ سعودی عرب میں ان کے قیام کے دوران ان کے آرام کو یقینی بنایا جا سکے۔

جدید ٹکنالوجی

ہر چند کہ حج دنیا کی سب سے قدیم زیارتوں میں سے ایک ہے، اس میں جدید ٹکنالوجی کو شامل کیا گیا ہے تاکہ زائرین کو سہولت فراہم کی جائے اور ان کی حفاظت اور بہتری کو یقینی بنایا جا سکے۔  اس کے لیے، ہر حاجی کو ایک الیکٹرانک شناختی کڑا دیا گیا ہے جس میں ان کی ذاتی اور طبی معلومات درج ہیں جو حج حکام کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ ان کی شناخت کر سکیں اور انھیں ضروری نگہداشت فراہم کر سکیں۔

پانی کا مزاحم اور جی پی ایس سے لیس کڑا حاجیوں کو نمازوں کے اوقات کی اطلاع دینے کے ساتھ ساتھ  غیر عربی داں حاجیوں کے لیے کئی زبانوں میں ہیلپ ڈیسک کی خصوصیت بھی رکھتا ہے۔

سعودی عرب کی وزارت برائے ثقافت و اطلاعات نے دو پورٹلس Hajj2017.org۔ اور SaudiWelcomesTheWorld.org کا اجرأ کیا ہے تاکہ حاجیوں کو مزید مدد فراہم کرتے ہوئے، عالمی میڈیا کے ساتھ ساتھ باقی دنیا کو بھی دوران حج باخبر رکھا جا سکے۔

4 ستمر کو حج مکمل ہو جائے گا۔

رابطہ برائے میڈیا

کسی بھی معلومات کے لیے، برائے مہربانی رابطہ کریں:

مرکز برائے بین الاقوامی مواصلات (سی آئی سی)،  وزارت ثقافت و اطلاعات، سلطنت سعودی عرب؛ ٹیلیفون: 3535 839 53 966+, ای میل: cic@moci.gov.sa, ٹوئیٹر: @CICSaudi

ماخذ: TBC